وطن کی فکر کرناداں

وطن کی فکرکرناداں

کامیاب ہیں وہی لوگ اور وہی قومیں جن کواپنے وطن کی فکر ہے۔ اس ملک،علاقہ کی فکر ہے جہاں وہ رہتے ہیں،بستے ہیں اور وہی انہوں نے جنم لیا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے باسیوں و شہریوں سےاور اپنے محافظوں سے اس کی توجہ کرنے کی وجہ سے ترقی کرتا ہے اور اپنا وجود برقراررکھتا ہے۔وطن کی مثال ایک چمن کی ہے اور اس کے باسیوں کی مثال اس چمن کے  باغ کے نگہبان یا مالی کی ہے۔پس چمن کی جب تک مالی فکر کرتا ہے۔۔اس کا دیکھ بال کرتا پے۔ وقت پر پھولوں کو پانی دیتا ہے اور کانٹ چھانٹ کرتا پےتو اس چمن میں تازگی اور بہار کا سماں ہر وقت رہتا ہے۔موسم خزاں میں بھی مالی کی مناسب دیکھ بال کی وجہ سے چمن میں بہار رہتی ہے۔ بلبل اور مختلف پرندوں کا مستقیل ٹھکانہ بنا ہوا ہوتا ہے۔اگر یہی مالی ذراغفلت اور سستی سے کام لے تو چمن میں نہ کوئی رونق ہوگی نہ پھول کھیلنگے اور نہ ہی بلبل اور پرندوں کا ٹھکانہ ہوگا۔ موسم بہار میں بھی چمن کے حالات موسم خزاں سے بھی بد تر ہونگے۔چمن کی اس خست حالت کی ذمہداری چمن کے نگہبان یا مالی پر عائد ہوتی ہے کہ جس کی لاپرواہی کی وجہ سے چمن سے اس کی تمام رنگینیاں ختم ہوگئ اور چمن کے باسی بھی متاثر ہوئے۔بلکل اسی طرح جب ایک ملک کے شہری اور ایک وطن کے باسی اپنے ملک اور وطن پر توجہ کم دینا شروع کریں، اس کی ترقی و بقاء کو کوئی ثانوی چیز گردایئں اور آپس میں اس قدر الجھ جائیں کہ وطن کی فکر سے بلکل غافل ہوں۔تو اس  ملک کی تباہی و بربادی شروع ہوجاتی ہے۔ایسی قوموں  کی داستانوں سے تاریخ کے سفید اوراق سیاح ہوجاتے ہیں۔تاریخ ایسی قوموں کے قصوں اور کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔کہ وہ اپنے ہی آپ تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔وطن کی فکراور اجتماعیت نہ ہونے کی وجہ سے۔آج ایسی کچھ کہانی میرے ملک کے باسیوںکی بھی ہے۔جن کواپنے مفادات ہی سب کچھ نظر آتے ہیں۔اس لیے اپنے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ ہم اب تک اس مقام پر نہیں ہیں۔جس مقام پر ہمیں اپنے ملک کو پہنچانا چاہیے تھا۔وطن ایک ایسا نقطہ ہے جس میں تمام اختلافات کو دور کیا جاتا ہے اورایک ہی جنڈے تلے جمعٰ ہوجانا ہوتا ہے۔اپنے تمام تر مفادات وطن کیلے قربان کرنا پڑتاہے۔ زاتی مفادات وہ واحد ناصور ہے جو ملکی مفادات کو نہ صرف پس پشت ڈالدیتے ہیں بلکہ قومی مفادات کے خلاف اقدامات کرنے پر بھی انسان تیار ہوجاتاہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومداراس ملک کے لوگوں پر ہے کہ وہ خود اپنے ملک کو کہاں دیکھنا چاہتےہیں۔اگر ملک کے باسیوں کو اپنے ملک کی فکرہے۔تووہ ہرگز اس ملک کو پرایا نیں سمجھ لینگے اور اس ملک کے مفادات پر اپنے مفادات کو ترجیح نہیں دینگے۔بلکہ اپنی جان اور اپنا سرمائیہ بھی ملک کی حفاظت ،بقاء اور ترقی کیلےقربان کرنے سے بھی نہیں کترائینگے۔کیونکہ جب وہ اس بات کو درک کرینگے کہ اس ملک کی بقاء ہی اصل میں ہماری بقاء ہے۔بد قسمتی سے مملکت خداد پاکستان کو بنے ہوئے ستر سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت گیا،اس ملک کے سیاست دانوں سے لے کر نوجوانوں اور عوام نے بہ نسبت اپنی ذات اوراپنے مفادات کے اس خداد مملکت کی فکر بہت کم کی۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ہمارے ملک کے حکمران اور سیاست دان جو اس ملک کے سیاح و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔انہوں نے تو کبھی وطن کی فکر ہی نہیں کی۔اگر ہمارے حکمران طبقہ کو وطن کی فکر ہوتی تو آج ہم دنیا کی دوسری قوتوں سے آگے ہوتے نہ کہ ان کے دست نگربن جاتے۔یہی وجہ ہے کہ ہم سے دو تین سال بعد آزاد ہونے والے ممالک آج نقطہ عروج کو پہچ چکے ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کی شک کی کوئی گنجائیش نہیں کہ ملک عزیز کےخلاف جو سازشیں اندرونی اور بیرونی ہوئی شائد کسی دوسرے ملک کے خلاف ایسی سازشیں ہوں۔پاکستان کیخلاف سازشیں پاکستان کے بنے سے پہلے ہی شروع ہوئی تھی۔مگر قیام پاکستان کے نعد ان سازشوں کو مزید تقویت ملی۔اس کےپاکستان بننے کےسے شروع ہونے والے اندرونی فتنوں نے اس نوزائدہ ملک کو زک پہنچایا۔اقتدار کی جنگ میں ہمارے لیڈران اس بات کو بھی فراموش کرگئے کہ اس نوزائدہ مملکت کی ضرورت کیا ہے۔اگرچہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مملکت خدادادپاکستان پورے نو سال بغیر کسی آئین کے چلا۔پھر کہیں جاکر ہمارا ملک کا آئین بنا۔بد قسمتی سے ہمارے پہلے وزیر اعظم اور لیڈرآف نیشن محترم جناب لیاقت علی خان نے بھی یہ ضروری نہیں سمجھا کہ اس ملک کو ایک آئین کی بھی ضرورت ہے اوربغیرآئین کے کوئی بھی ملک معاشرہ زیادہ عرصہ تک کیلے نہیں چل سکتا۔پاکستان کو جتنا نقصان شروع کے9سے12سالہ بے آئینی دور میں پہنچا شائد ہی کسی اور دور میں پہنچا ہو۔اس بے بغیر ائینی دورسے جتنا نقصان ہوا اس ملک کا شائد اتنا تو سقوط ڈھاکہ سے بھی نہیں ہواہوتا۔اگر ذرا غور کیا جائے تو دسقوط ڈھاکہ کی وجہ بھی ملک کے اندرونی سیاسی خلفشار تھے اور اقتدار کی جنگ تھئ۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اس وقت اس ملک میں شروع سے ہی آئین نہ ہونے کی وجہ اقتدار طاقتور کی جھولی میں تھا۔اگرروزاول ہی سے اس ملک عزیزکوایک اسلامی اورجمہوری مکمل دستور دیتے تو آج پاکستان کے سیاسی،عدالتی اور ٓانتظامی ودفاعی حالات آپس میں کشمکش کا شکار نہ ہوتے۔ بقول شاعر

یہ حال بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطاء کی تھی صدیوں نے سزاپائی

پاکستان کے موجودہ حالات خراب حالات کاتعلق شروع کے ان سالوں سے ہے جس میں پاکستان کا اپنا کوئی قانون نہیں تھا بلکہ انڈین ایکٹ 1935 میں کچھ ترامیم کے ساتھ اسی ایکٹ کو پاکستان میں لاگو کیا گیا تھا۔لیاقت علی خان کے فرائض میں اورانکی پالیسز میں آئین بنانے کا ذکر کہیں دور تک دکھائی نہیں دیتا۔اگر کہیں ہوبھی تو کیا فائدہ جس کا عملی کوئی مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔اگر لیاقت علی خان اور اس کی کابینہ کی اولین ترجیح اس ملک کو ایک اسلامی اور مکمل آئین دینے کی ہوتی تواوراگراس ملک کو ایک ایئنے میں کامیاب ہوتے تونہ صدر سکندر کی جرعت ہوتی کہ وہ اس ملک میں اپنی مرضی چلاتے نہ کسی اور عامرکی کہ اس ملک کے آئین کو پاش پاش کرکے اقتدار کے مزے لیتے۔یہی وجہ بنی کہ 1956ءکے اءین سے پہلےہی اس ملک میں اقتدار کی رسہ کشی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور وہ آج تک تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔خیر بات بہت آگے تک چل نکلی ہم بات کررہے تھی” وطن کی فکر کی” تو جب وطن کی ہی فکر نہ تو اس کےباسی کبھی دولت کے چکروں میں قومی مفادات کو دھاو پر لگاتے ہیں تو کبھی اقتدارکے حصول کیلے خود سمیت وطن کو فروغ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔آج بھی من حیث قوم ہمارے اندرکی فکرکا جذبہ اس شدت سے نہیں پایا جاتا جس شدت سے پایا جانا چاہیے تھا۔ہمارے سیاست دان سمیت تمام طبقہ فکر کے لوگ وطن کی فکر کو فراموش کرچکے ہیں۔آج نہ ہماری جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں اور نہ ہی نظریاتی سرحدیں۔دشمن ہرطرف سے حملہ آوٓر ہے اور دشمن مسلسل اس مملکت کے خلاف پروپیگنڈوں میں لگا ہوا ہے مگر ہمارے سیاستدانوں کو کرسی کی پڑی ہے اور عوام کا کام بس سیاسی جلسوں میں پاور شو کرانا ہے اپنے لیڈروں کی خوشنودی کیلے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں خواب خرگوش سے نکلناہوگا۔عملی میدان میں ملک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ملک کی بقاء کیلے عدل وانصاف کیلے اور نظریاتی سرحدوں کی تحفظ کیلے اٹھنا ہوگا۔اب تمام تعصوبات کو بالائے تک رکھ میدان میں اترنا ہوگا اور اپنا ہر عمل وطن کی فلاح کیلے اٹھا نآہوگا۔ہم میں سے ہرایک کو چاہیے اداروں ہوں یاعام افراداپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے لیڈر کا انتخاب ہماری ذمہ داری ہے۔جو اس ملک کو تر قی کی سمیت گامزن کرسکے۔انشاللہ وہ وقت دور نہین جب ملک عزیز پاکستان بھی دنیا بھرمیں ایک ناقابل تسخیر قوت بھر کر ابھرے گا۔دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکے گی۔بس اس کیلے ضروری ہے کہ ہم وطن کی فلر کریں اور اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

 

عبدالحسین آزاد

وفاقی اردو یونیوسٹی کراچی

Email:abdulazad286@gmail.com

 

Advertisements

فاطمہ اس لئے فاطمہ تھی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہاں!فاطمہ اس لئے فاطمہ تھی خاتون جنت،شہزادی کونین،مادر حسنینؑ حضرت فاطمہ س کی حیات مبارکہ ،آپ کی تعلیمات اور سیرت شہزادی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔آپ کی تعلیمات اور سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور تمام مسائل کا حل بھی آپ کی سیرت کی پیروی میں پنہاں ہے۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو تمام خواتین کیلے اور خاص کر کنیزان زہراکیلے وہ مشعل راہ ہے کہ جس کی منزل روشن اور مستقبیل تابناک ہے۔ ظلمت اور برائی اس راہ سے کوسوں دور ہے۔یہ وہ راستہ ہے۔جس میں چل کر ہم دین و دنیا میں کامران اور آخرت میں سرخروہوتے ہیں۔فاطمہ اپنے بابا کیلے ایک عظیم بیٹی،اولاد کیلے ایک شفیق ماں اور اپنے شوہر علیؑ مرتضیٰ کیلے ایک عظیم بیوی تھی۔ایک عظیم بیوی ہونے کا وہ ثبوت دیا کہ کبھی مولا علی ؑ سے کوئی شکایت نہیں کیں ۔ علی علیہ السلام کے گھر آنے کے بعد کبھی نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ظاہر کی بلکہ سخت ترین ضرورت کے وقت بھی جب گھر میں کچھ نہ تھا تب بھی آپ نے اپنے شوہر سے نہ کہا کہ علی ع گھر میں کچھ نہیں ہے کچھ انتظام کردیں۔ایک ماں ہونے کے ناطے اولاد کی اس قدر تربیت فرمائی کہ۔آپ کے بطن مبارک سے خیر کثیر کاایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اپنا سب کچھ دین نانا پر قربان کرکے نانا کے دین اور شریعت محمدی کو تا قیام قیامت سر فرازی عطاء کیں۔ایک بیٹی ہونے کا فریضہ یوں انجام دیا کہ اپنے بابا کی ماں کہلانے لگی۔یعنی اس قدر خیال رکھتی تھی اپنے بابا کا شہزادی کونین کہ جیسے ایک ماں اپنی اولاد کا خیال رکھا کرتی ہے۔رسول الکریمؐ اپنی بیٹی سے بے انتہا پیار کرتےاور حددرجہ احترام فرماتے تھے۔بی بی تشریف لاتی تو آپ کے احترام کیلے نہ صرف اٹھ کھڑے ہوتے بلکہ آپ کو اہنی جگہ جہاں آپؐ خودتشریف فرما ہوتے تھے بیٹھاتے تھے۔آپؐ نے فرمایا۔”فاطمہ میرا جگر کا ٹکڑا ہے۔جس نے فاطمہ کو ازیت پہنچائی اس نے مجھے ازیت پہنچائی۔اس کی مرضی خدا کی مرضی اور اس کا غضبناک ہونے سے خداغضبناک ہوتا ہے۔”اس عظیم مقام پر فائز ہونے کے باوجود سلام ہو شہزادی پر کہ آپ اپنے گھر کے تمام کام خود کیا کرتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن ایک کنیز کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے کنیز کاہاتھ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: بیٹی یہ کنیز آج سے تمہاری خدمت کرے گی۔ یہ نماز کی پابند ہے تمہارے لئے بہتر ہوگی۔اس کے بعد کنیز کے حقوق کے سلسلہ سے کچھ نصیحتیں فرمائیں بی بی نے اپنے بابا کو دیکھا اور کہا بابا آج سے گھر کے کاموں کو تقسیم کرلیا۔ایک دن کا کام آپ کی بیٹی کرے گی اور ایک دن کا کام یہ کنیز کے ذمہ ہوگا۔یہ سن کرپیغمبرؐ کی آنکھوں میں آنسوں میں آئے اور یہ آیت تلاوت مرمایا”اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے” فضہ گھر کی کنیز تھی ۔بی بی کی معرفت ،شان و منزلت اورشان اہلبیت ؑ سے واقف بھی تھی ۔لیکن بی بی نے گھر کا کام بانٹا ہوا تھا ایک دن فضہ کام کرتی ایک دن شہزادی کونین کا کرتی تھی۔ سلمان فارسی کہتے ہیں ایک دن میں نے دیکھا کہ بی بی دوعالم بچوں کو سنبھالے چکی پیس رہی ہیں جبکہ ہاتھ زخمی ہے اور اس سے خون جاری ہے ۔ میں نے کہا بی بی آپکے پاس فضہ ہیں پھر آپ ان سے کام کیوں نہیں لیتیں جواب دیا فضہ کی باری کل تھی جو گزر گئی آج میری باری ہے۔ عبادت کے لئے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اہتمام یہ تھا کہ عبادت کی جگہ معین تھی مصلی معین تھا۔ پوری تیاری و انہماک کے ساتھ عبادت کرتیں۔ مستحبات پر خاص توجہ ہوتی۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں فرمایا: اسماء مجھے وہ عطر لا دو جو میں ہمیشہ لگاتی ہوں اور وہ لباس لا دو جس میں نماز پڑھتی ہوں اور میرے سرہانے بیٹھ جاو اگر مجھ پر غنودگی طاری ہو تو [ مجھے اٹھا دینا اور اگر تمہارے اٹھانے سے نہ اٹھ سکوں تو علی ع کو خبر کر دینا ] عبادت کے سلسلہ سے خاص اہتمام کے باوجود اپنے بابا کا اتنا خیال رہتا کہ ایک دن نمازمستحبی میں مشغول تھیں جیسے ہی بابا کی آواز سنی نماز کو چھوڑ دیا دوڑتی ہوئی بابا کے پاس آئیں سلام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب سلام دیا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور یوں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنی بیٹی کے لئے دعاء کی۔” بارالھا اس بچی پر اپنی رحمت و غفران نازل فرما” ایک دن جناب سلمان فارسی سے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا سلمان: یہ اعرابی ابھی نیا مسلمان ہوا ہے بھوکا ہے ،اسکے لئے کھانے کا انتظام کرو، جناب سلمان فارسی نے سیدھا در علی ع کا رخ کیا شاید جانتے تھے کہ کہیں ملے نہ ملے لیکن در علی ؑ سے خالی ہاتھ واپس نہیں پلٹوں گا ،دروازہ پر پہنچے دق الباب کیا اپنا مدعا بیان کیا علیؑ گھر پر نہیں تھے چنانچہ فاطمہ زہرا س نے آنے کا سبب دریافت کیا سلمان نے جواب میں بتایا : آپکے بابا نے کسی اعرابی کے کھانے کا انتظام کرنے کو مجھ سے کہا تھا اس لئے حاضر ہوا ہوں۔ جواب ملا سلمان خدا کی قسم گھر میں کچھ بھی نہیں ہے ،حسن و حسین کو میں نے ابھی ہی بڑی مشکل سے بھوکا سلایا ہے ،لیکن سلمان گھر میں آئے سبب خیر کے لئے کیونکر رکاوٹ بنوں جبکہ خیر و نیکی خود چل کر میرے گھر آئی ہو ؟ پھر فرمایا: سلمان یہ میرا لباس ہے اسے شمعون{ مدینہ میں رہنے والا ایک یہودی جو بعد میں مسلمان ہو گیا } کے پاس لے جاو اور اسکے بدلے خرما اور جو لے آو ۔سلمان لباس لیکر شمعون کے پاس پہنچے ، ماجرا بیان کیا جب شمعون کو پتہ چلا لباس دختر رسولؐ کا ہے اور گھر میں کھانے پینے تک کو کچھ نہیں ہےتو بے ساختہ اس کے منھ سے یہ جملے نکلے:اسے کہتے ہیں زہد یہ تو وہی کیفیت ہے جس کے بارے میں توریت میں کہا گیا ہے اسکا مطلب فاطمہ ع جس خدا کو مانتی ہیں وہی برحق ہے اور فورا کہا سلمان ”اشھد ان لا الہ الاللہ’’ ’’ وان محمد رسول اللہ ”،یہ کہکر خرما اور جو جناب سلمان کے حوالے کر دیا۔ سلمان خوشی خوشی لیکر آئے جناب فاطمہ ع کو دیا بی بی نے نو مسلم اعرابی کے لئے اپنے ہاتھوں سے جو کو پیسا اسکا آٹا بنایا اور پھر خمیر تیار کر کے روٹیاں تیار کیں اور سلمان کے حوالے کر دیں۔ جناب سلمان نے چلتے چلتے کہابی بی آپ بھی ان میں کچھ روٹیاں اپنے لئے رکھ لیں ،حسنین بھی تو بھوکے ہیں ۔بی بی سلام اللہ علیہا نے جواب دیا : “جو چیزہم راہ خدا میں دے دیتے ہیں اس میں تصرف نہیں کرتے ” سلمان ہی سے نقل ہے کسی کام سے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر گیا تو محسوس کیا کہ فاطمہ ع چکی پیس رہی ہیں ساتھ ہی تلاوت قرآن بھی کرتی جا رہی ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ بچے رات کی تاریکی میں آپکو گریہ کرتے پاتے دیکھتے کہ ماں عبادت میں مشغول ہے اکثر ایسا بھی ہوتا کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر جانے کے بعد ماں بچوں کو [ نیند سے اٹھاتی کہ اب وقت عبادت ہے] امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ایک شب جمعہ میں نے اپنی مادر گرامی کو تا صبح محراب عبادت میں اپنے معبود سے راز و نیاز کرتے پایا میں طلوع آفتاب تک اپنی مادر گرامی کو کبھی رکوع میں دیکھا تو کبھی سجود میں میں نے دیکھا مادر گرامی نے خدا سے رازو نیاز کے ساتھ سب کے لئے دعاء کر رہی ہیں تو سوال کیا مادر گرامی اپنے لئے کیوں نہیں دعاء کی (جواب ملا بیٹے پہلے پڑوسی پھرہم) ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں “میری ماں اسقدر عبادت کرتیں کہ پیروں پر ورم آجاتا” حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت دلہن کا مخصوص لباس ہدیہ کیا ،ایک دن کوئی سائل آیا جسکے پاس لباس نہیں تھا آپ نے شادی والا لباس سائل کو دے دیا۔ جب پیغمبرؐآپ کے گھر آئے تو دیکھا بیٹی کو دیا ہوا لباس تن پر نہیں اور فاطمہ پرانا لباس پہنے ہیں ۔ کہا بیٹا تمہارا لباس کہاں گیا جو بابا نے تمہیں لا کر دیا تھا۔ جواب دیا بابا ایک بار ایک سائل آپ کے پاس آیا تھا تو آپ کے پاس ایک ہی لباس تھا آپ نے سائل کو دے دیا اور خود حصیر اوڑھ کر گزارا کیا ۔ میں نے چاہا کہ آپ کے عمل کی تاسسی کرتے ہوئے ایسا کچھ کروں کہ آپ سے مشابہہ ہو جاوں بعض نے لکھا کہ بی بی نے کہا بابا میں نے چاہا کہ اس آیت پرعمل کروں جس میں بیان کیا گیا کہ تم اس وقت نیکی تک پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک وہ چیزاللہ کی راہ میں نہ دو جو تمہیں محبوب ہے۔شادی کے دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام سے پوچھا علی تم نے فاطمہ ع کو کیسا پایا ؟ جواب دیا : اطاعت الہی میں اپنا بہترین معاون و مدد گارپایا۔ علی علیہ السلام کے گھر آنے کے بعد کبھی نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ظاہر کی بلکہ سخت ترین ضرورت کے وقت بھی جب گھر میں کچھ نہ تھا تب بھی آپ نے اپنے شوہر سے نہ کہا کہ علی ع گھر میں کچھ نہیں ہے کچھ انتظام کردیں بلکہ جب امام علی علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ گھر میں کچھ نہیں ہے تو خود ہی سوال کیا۔ بی بی آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ گھر میں کچھ نہیں ہے تو اسکے جواب میں بی بی دو عالم فرمایا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں کسی ایسے کام کو کہہ دوں جسے آپ انجام نہ دے سکیں ۔ بچوں کو ایسا ماحول فراہم کیا کہ ہر وقت گھر سے تلاوت قرآن و تسبیح کی آوازیں بلند رہتیں۔اسکے باوجود بچوں سے تاکید کرتیں کہ مسجد میں جاکرسنا کرو کہ نانا نے کیا کہا اور جب بچے واپس پلٹتے تو سوال کرتیں تم نے کیا سنا اپنی ماں کو بتاو ،کبھی اپنے بچوں کو بابا کی طرح بننے کی تلقین یوں کرتیں بیٹا اپنے بابا کی طرح حق کے گردن میں پڑی “ریسمان ظلم کو کاٹ دینا کبھی ظالموں کےساتھ نہ رہنا” یہ تو چند ایک نمونے تھے تاریخ کے جوہمارے سامنے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا سراپا تھا کہیں ، بچوں کو سنھبالے ،کہیں چکی پیستی ، کہیں علی کے غموں کو سنتی کہیں کسی کی مدد کرتی ، کہیں کسی کو کھانا کھلاتی ۔فاطمہ کی صورت جو مجھ سے کہہ رہی ہے کہ میں یوں ہی فاطمہ نہیں ہوں میرے درجہ کی بلند ی و رفعت کے پیچھے ، بھوک ہے پیاس ہے ، عزم پیہم ہے ،سعی مسلسل ہے ، ضبط غم ہے تحمل ہے ، صبر ہے ،مسلسل عبادتوں کی بنا پر پیروں پر ورم ہیں ، انسانیت کا در د ہے ، راہ ولایت میں شکستہ پہلو ہے ، بازوپر نیل کے نشاں ہیں ، ٹولی پسلیاں ہیں پس ہمیں یہ راز سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ذات حق میں جتنا خود کو فنا کر دوگے اتنا ہی بلندی حاصل کر لوگے ،لیکن کچھ بلندیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہم آگے بڑھنے کا حوصلہ تو حاصل کر سکتے ہیں خود ان کو چھونا ہمارے بس کی بات نہیں کہ ہم خاکی ہیں اور یہ بلندیاں ان لوگوں کے لئے ہیں جو نورانی تھے لیکن پیکر خاکی میں ہماری رہنمائی کر رہے تھے ، البتہ اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم تھک ہار کر بیٹھ جائیں اور یہ سوچیں کہ ہمارے بس کی بات ہی نہیں اسکے برعکس فارسی کہاوت شاید بہتر طور پر ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ، آب دریا را اگر نتوان کشید. ھم به قدر تشنگی باید چشید.پتہ نہیں آپکو جواب ملا یا نہیں لیکن مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا کہ فاطمہ کیوں فاطمہ ع تھیں ، فاطمہ ع اپنے خلوص ، اپنے ایمان ، راہ حق میں جذبہ قربانی ،راہ ولایت میں اپنا سب کچھ لٹا دینے کی بنیاد پر فاطمہ تھیں ، فاطمہ اس لئے فاطمہ تھیں کہ اپنی نیت و اپنے عمل میں یکتائے روز گار تھیں ایک انتخاب پروردگار تھیں فاطمہ ع اسی لئے فاطمہ ع تھیں کہ انکے نفس نفس پر مرضی معبود کی چھاپ تھی ہاں فاطمہ اسی لئے فاطمہ س تھی. دعاگو۔عبدالحسین آزاد بصد شکریہ ابناء نیوز

انصاف کب ملے گا

شریفوں کے صوبہ پنجاب شہر لاہور میں والدین کا اکلوتا سہارا،ماں باپ کی آس،بڑھاپے کا سہارا،غریب ماں باپ کی جنت دنیا سب تھا دلاور مارا گیا،قتل ہوا،خون کیا مگر خبر نہ ہوئی۔ اگر کسی سیاسی شخصینت کے حلق میں روٹی کا ٹکڑا پھنس جائے تو ہمارا نام نہاد،غیرجانبدار میڈیا پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دہتا ہے مگر یہاں نہیں کیونکہ شائد اس کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اس لیے اور اس کے والدین کے پاس پیسے نہیں کہ میڈیا کے چینلز کو کھلائیں اور خبر نشر کرائیں انصاف کیلے ایسے میں یہ ہماری زاتی ذمہداری بنتی ہے کہ انصاف کیلے آواز بلند کریں۔ گلگت بلتستان کی سرزمین امن کی سرزمین ہے ہم تو سب کو گلگت بلتستان آنے کی دعوت دیتے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی حفاظت اپنی اولین ذمہداری سمجھتے ہیں۔تو ہمارے ساتھ ہونے والے، ہمارے طالبعلموں کے ساتھ ہونےوالے نارواسلوک بھی بند ہونا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کوچاہیئے کہ وہ پنجاب حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرے اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔کراچی میں نقیب مارا گیا،مقابلہ جالی تھا یا اصلی یہ کوئی نیئ بات نہیں ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ ہزاروں بچے بس اسی آس میں جی رہے ہیں کہ شائد ان کے بابا ان کو ملیں واپس آئیں انتظار کی ان سخت کڑئیاں بے برداشت ہوتی چلی جارہی ہیں۔ آخر لاپتہ لوگ کہاں ہیں آسمان کھا گی یا زمین کچھ معلوم کیوں نہیں ہوتا اور پولیس مقابلےکب تک ہونگے۔ اب تو ڈر لگنے لگا ہے کہ کوئی پولیس والا گھر میں آکر گولی چلالے اور ہم بھی پولیس مقابلے میں مارے جائیں کیونکہ ہم بھی آواز اٹھاتےہیں۔ ریاست کے اندر کئی ریاستوں کا مطلب جاننے یا اس کے اوپر اگر کوئی پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلے تھیسز لکھنا چاہتا ہے تو اس کو میرا مشورہ یہ ہے کہ بلا جھجھک پاکستان آئے کیونکہ یہاں ریاست کے اندر ایک نہیں ہزاروں ریاستیں آباد ہیں۔چند دنوں میں تھسز مکمل ہوجائینگے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی مل جائیگی اور ساتھ ہی ایک اور ڈگری ایسی ملی گی کہ پھر آپ کو مزید کسی کام کی ضرورت نہیں رہے گی۔کیونکہ آپ ہی نہیں رہینگے۔جالی پولیس مقابلے میں مارے جائینگے۔

تریشنگ دنیا کا خوبصورت ترین گاوں جو سطح سمندر سے 2911میڑبلند ہے ۔نانگاپربت کی دامن میں واقع یہ گاوں دنیا کی نظریں اپنی جانب گامزن کرتا ہے۔8126میڑ بلند دنیا کا خطرناک پہاڈ جو قاتل پہاڈ کے نام سے مشہور ہے اس گاوں کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے